Showing posts with label Poetry& Urdu. Show all posts
Showing posts with label Poetry& Urdu. Show all posts

Saturday, 17 October 2020

دوپہر

 درپیش ہیں کئی دوپہریں مجھے

جس میں تیرا سایہ مجھ پر نہیں

اور تیری باتوں میں میری بات نہیں
تیری یادوں میں میری اب کوئی یاد نہیں
میں موج تھا تو تھا دریا

آج بھی ضبط کا بند ٹوٹا تو نہیں
ہم ڈھونڈ لاتے کوئی تجھ سا

پر اس زمیں پر کوئی تجھ سا ہے ہی نہیں
کیسی رات ہے اتری اذن
جس کی کوئی صبح نہیں

Friday, 14 February 2020

اس محبت کی یاد میں

اس محبت کی یاد میں
جو محبت ہم سے کبھی ہو نہ سکی
اقرار کی کبھی توفیق نہ ہوئی
وہ بات جو ہم سے کبھی کہی نہ جاسکی
اس کے نہ ملنے کا دکھ تو ہے
پر شکایت کبھی لبوں پر نہ آسکی
کاش ہم دنیا کے مزاجوں میں رنگ جاتے
پر صد افسوس کہ یہ خواہش بھی ہمیں تیرے قریب نہ لا سکی
ادھورے ادھ لکھے خط جو تیرے نام تھے
مصیبت یہ تھی کہ کہ لفظ میرے خاموش تھے
اور قاصد کی زبان تجھ سے کچھ کہنے کی تاب نہ لا سکی
ہمیں فراق کی کچھ ایسی عادت ہوئی ہے اب
کہ وصل کی امید بھی اس دل نامراد میں جگہ نہ پا سکی
ہم آج بھی تیرے شہر میں بستے ہیں
روز انہی رستوں پر چلتے ہیں
تو نہیں تیری یاد سے ہم یاری رکھتے ہیں
اصلیت یہ ہے کہ تو ہوتی یا کہ تیری یاد ہے
زندگی کبھی ہمیں سنوار نہ سکی

Wednesday, 1 January 2020

کوئی خط لکھ مجھے


کوئی خط لکھ مجھے
تاکہ میں اسے سنبھال رکھوں
اپنے بٹوے کے کسی خانے میں
یا پھر کسی کوٹ کی اندر کی جیب میں
کہ جب تیری یاد سے بے حال ہو جاوں
تو ان لفظوں کو چھو کر
تیرا لمس محسوس کر سکوں
تیری تصویر بنا سکوں
تیرے بالوں میں کنگھی کر سکوں
اور پھر جب مروں
تو میرے ترکے میں تیرا کچھ تو ہو
کوئی خط لکھ مجھے

Wednesday, 20 November 2019

میں کہانیاں کیوں لکھتا ہوں

تم جو پوچھتی ہو کہ میں کہانیاں کیوں لکھتا ہوں؟
میں تو کہانیاں تم کو سنانے کو لکھتا ہوں
تاکہ کچھ دیر کوئی بات تو ہو
میں کچھ دیر تیری آنکھوں میں جھانک سکوں
تجھے تیری زلفوں سے کھیلتا دیکھوں
تو میرے سامنے چائے پیئے
تیرے ہونٹوں کا نقش چائے کی پیالی پر پیوست ہو
چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ تیرے چشمے کے شیشوں پر سمٹ جائے
اور پھر میں دنیا کے سب کام چھوڑ کر تیرے چشمے کے شیشے صاف کروں
میں تو کہانیاں اس لئے لکھتا ہوں
کہ میرے لکھے لفظوں کو تیری شرف قبولیت حاصل ہو
میرے لکھے کرداروں سے تو رضامند ہو
تب ہی میں روز اک نئی کہانی گھڑ کر لے آتا ہوں
اس کہانی کو بننے کا مقصد صرف تم ہوتی ہو
پر پھر بھی روز تم مجھ سے کہتی ہو
میں کہانیاں کیوں لکھتا ہوں؟

Friday, 11 October 2019

تم کہ جو ہزار رنگ ہو

تم کہ جو ہزار رنگ ہو
ہر رنگ میں بھلی لگتی ہو
ہر رنگ میں میری لگتی ہو
وہ دعا جو نصیب کھول دے وہ دعا لگتی ہو
وہ آیت جو زمیں پر اتاری گئی
کہ جس کہ پڑھنے سے ہر آفت دور ہوجائے
وہ آیت لگتی ہو
کمال ہے اس دنیا کا دستور
تم اس دستور سے کی گئی بغاوت لگتی ہو
ہر محفل میں ہے چرچا تیرا
کبھی سرگوشی تو کبھی افواہ لگتی ہو
تجھے دیکھ کر زمانے کے دکھ جھڑتے ہیں
لوگ تیرا نام لے کر آہیں بھرتے ہیں
کبھی معجزہ تو کبھی وعید لگتی ہو
نجم کی چال ہو
یا قسمت کی لکیریں
تجھے کوئی کیسے اپنے بس میں کرے
تجھے کیسے کوئی اپنا کرے
بہت عام ہے تو پھر کیوں سب سے جدا لگتی ہو
میں نے جان لی ہے حقیقت تیری
تیری جستجو بے سود نہیں
تو تو منزل ہے ہی نہیں
میری جاناں تم تو منزل کا رستہ لگتی ہو
تم کہ جو ہزار رنگ ہو
تم کہ جو ہزار رنگ ہو

Saturday, 10 November 2018

شہروں کی کہانیاں

اس شہر کے مرنے کا
دکھ سب ہی کو کافی تھا 
پر اس بچے کو سب سے زیادہ تھا
جس کا دادا یہاں جنما تھا
اس کا سارا بچپن
اس شہر کی کہانیاں سنتے گزرا تھا
جب یہ شہر توانا ہوتا تھا
ہر دن یہاں سہانہ ہوتا تھا
نیند سکون کی ہوتی تھی
بھوک تھی پر روٹی مل جایا کرتی تھی
بارود کی بو سے خلق انجان تھی
تب اس شہر میں زندگی رواں تھی
اب جب جاڑا آئے گا
وہ اپنے دادا کی گرم چھاتی سے لگ کر
کس کی کہانیاں سنے گا
ان دونوں کے دکھ کا کچھ تو حل کرو
اس شہر کو پھر سے زندہ کرو
تاکہ دادے اپنے پوتوں کو
اپنے شہروں کی کہانیاں سناتے رہیں